Tag Archives: turmoil

Turmoil will fall like rain

Urdu and English followed by Arabic text.

حدثني أبو کامل الجحدري فضيل بن حسين حدثنا حماد بن زيد حدثنا عثمان الشحام قال انطلقت أنا وفرقد السبخي إلی مسلم بن أبي بکرة وهو في أرضه فدخلنا عليه فقلنا هل سمعت أباک يحدث في الفتن حديثا قال نعم سمعت أبا بکرة يحدث قال

قال رسول الله صلی الله عليه وسلم إنها ستکون فتن ألا ثم تکون فتنة القاعد فيها خير من الماشي فيها والماشي فيها خير من الساعي إليها ألا فإذا نزلت أو وقعت فمن کان له إبل فليلحق بإبله ومن کانت له غنم فليلحق بغنمه ومن کانت له أرض فليلحق بأرضه قال فقال رجل يا رسول الله أرأيت من لم يکن له إبل ولا غنم ولا أرض قال يعمد إلی سيفه فيدق علی حده بحجر ثم لينج إن استطاع النجا اللهم هل بلغت اللهم هل بلغت اللهم هل بلغت قال فقال رجل يا رسول الله أرأيت إن أکرهت حتی ينطلق بي إلی أحد الصفين أو إحدی الفتين فضربني رجل بسيفه أو يجي سهم فيقتلني قال يبو بإثمه وإثمک ويکون من أصحاب النار

——————-

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2750 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 2

ابوکامل جحدری فضیل بن حسین بن حماد بن زید عثمان شحام حضرت عثمان بن الشحام سے روایت ہے کہ میں اور فرقد سنجی مسلم بن ابوبکر کی طرف چلے اور وہ اپنی زمین میں تھے ہم ان کے پاس حاضر ہوئے تو ہم نے کہا کیا آپ نے اپنے باپ سے فتنوں کے بارے میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے انہوں نے کہا ہاں میں نے ابوبکرہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ

رسول اللہ فرمایا عنقریب فتنے برپا ہوں گے آگاہ رہو پھر فتنے ہوں گے ان میں بیٹھنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا ان کی طرف دوڑنے والے سے بہتر ہوگا آگاہ رہوجب یہ نازل ہوں یا واقع ہوں تو جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے ساتھ ہی لگا رہے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین سے ہی چمٹا رہے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں جس کے پاس نہ اونٹ ہوں اور نہ بکریاں نہ ہی زمین آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار پتھر کے ساتھ رگڑ کر کند اور ناکارہ کر دے پھر اگر وہ نجات حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو نجات حاصل کرے اے اللہ میں نے تیرا حکم پہنچا دیا ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں کہ اگر مجھے ناپسندیدگی اور ناگواری کے باوجود ان دونوں صفوں میں سے ایک صف یا ایک گروپ میں کھڑا کر دیا جائے پھر کوئی آدمی اپنی تلوار سے مجھے مار دے یا کوئی تیر میری طرف آجائے جو مجھے قتل کر ڈالے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ آدمی اپنے گناہ اور تیرے گناہ کے ساتھ لوٹے گا اور دوزخ والوں میں سے ہوگا۔

Abu Bakr reported Allah’s Messenger (may peace be upon him) as saying: There would soon be turmoil. Behold! there would be turmoil in which the one who would be seated would be better than one who would stand and the one who would stand would be better than one who would run. Behold! when the turmoil comes or it appears, the one who has camel should stick to his camel and he who has sheep or goat should stick to his sheep and goat and he who has land should stick to the land. A person said: ‘Allah’s Messenger, what is your opinion about one who has neither camel nor sheep nor land? Thereupon, he said: He should take hold of his sword and beat its edge with the help of stone and then try to find a way of escape. O Allah, I have conveyed (Thy Message) ; O Allah, I have conveyed (Thy Message) ; O Allah, I have conveyed (Thy Message). A person said: Allah’s Messenger, what is your opinion if I am drawn to a rank in spite of myself, or in one of the groups and made to march and a man strikes with his sword or there comes an arrow and kills me? Thereupon he said: He will bear the punishment of his sin and that of yours and he would be one amongst the denizens of Hell.