Urdu and English followed by Arabic text.
This Hadith is Mutafuq-Aleh (most authentic) and repeated 13 times in books of aHadith.
حدثنا عمر بن حفص قال حدثنا أبي قال حدثنا الأعمش قال حدثني أبو صالح عن أبي هريرة قال قال النبي صلی الله عليه وسلم ليس صلاة أثقل علی المنافقين من الفجر والعشائ ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا لقد هممت أن آمر المؤذن فيقيم ثم آمر رجلا يؤم الناس ثم آخذ شعلا من نار فأحرق علی من لا يخرج إلی الصلاة بعد
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 625 حدیث مرفوع مکررات 13 متفق علیہ 8
عمرو بن حفص، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ گراں منافقوں پر کوئی نماز نہیں لیکن اگر ان کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان دونوں کے وقت پر پڑھنے میں کیا ثواب ہے تو ضرور ان میں آئیں اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل چلنا پڑے میں نے یہ پختہ ارادہ کرلیا تھا کہ موذں کو اذان دینے کا حکم دوں پھر کسی سے کہوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے اور میں آگ کے شعلے لے لوں اور جو لوگ اب تک گھر سے نماز کے لئے نہ نکلے ہوں ان کے گھروں کو ان کے سمیت جلا دوں لیکن ان کے اہل وعیال کا خیال آنے سے یہ ارادہ ترک کر دیا۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, “No prayer is harder for the hypocrites than the Fajr and the ‘Isha’ prayers and if they knew the reward for these prayers at their respective times, they would certainly present themselves (in the mosques) even if they had to c awl.” The Prophet added, “Certainly I decided to order the Mu’adh-dhin (call-maker) to pronounce Iqama and order a man to lead the prayer and then take a fire flame to burn all those who had not left their houses so far for the prayer along with their houses.”
حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد بن أبي عدي عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة عن النبي صلی الله عليه وسلم قال لقد هممت أن آمر بالصلاة فتقام ثم أخالف إلی منازل قوم لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم
—–
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2277 حدیث مرفوع مکررات 13 متفق علیہ 8
محمد بن بشار، محمد بن عدی، شعبہ، سعد بن ابراہیم، حمید بن عبدالرحمن، ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ نماز کا حکم دوں اور نماز کھڑی ہو تو میں ان لوگوں کے گھروں میں جاؤں جو نماز میں شریک نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو جلا دوں۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet said, “No doubt, I intended to order somebody to pronounce the Iqama of the (compulsory congregational) prayer and then I would go to the houses of those who do not attend the prayer and burn their houses over them.”
________________
حدثنا إسماعيل حدثني مالک عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب يحتطب ثم آمر بالصلاة فيؤذن لها ثم آمر رجلا فيؤم الناس ثم أخالف إلی رجال فأحرق عليهم بيوتهم والذي نفسي بيده لو يعلم أحدکم أنه يجد عرقا سمينا أو مرماتين حسنتين لشهد العشائ قال محمد بن يوسف قال يونس قال محمد بن سليمان قال ابوعبد الله مرماة ما بين زلف الشاة من اللحم مثل من ساة وميضاة الميم مخفوضة
—-
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2103 حدیث مرفوع مکررات 13 متفق علیہ 8
اسماعیل، مالک، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں، پھر اذان کہنے کا حکم دوں پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں نہ آئے ہوں اور ان کو ان کے گھروں میں جلا دوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ تم میں سے کسی کو یہ امید ہو کہ وہاں اس کی موٹی ہڈی یا دو مر ماۃ حسنہ (یعنی بکری کے کھر کے درمیان جو گوشت ہوتا ہے) ملیں گے تو وہ ضرور عشاء میں شریک ہوں گے۔
Narrated Abu Huraira:
Allah’s Apostle said, “By Him in Whose Hands my life is, I was about to order for collecting fire wood and then order someone to pronounce the Adhan for the prayer and then order someone to lead the people in prayer and then I would go from behind and burn the houses of men who did not present themselves for the (compulsory congregational) prayer. By Him in Whose Hands my life is, if anyone of you had known that he would receive a bone covered with meat or two (small) pieces of meat present in between two ribs, he would come for ‘Isha’ prayer.” (See Hadith No. 617, Vol. 1)
__________________
حدثنا أبو بکر بن أبي شيبة حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم لقد هممت أن آمر بالصلاة فتقام ثم آمر رجلا فيصلي بالناس ثم أنطلق برجال معهم حزم من حطب إلی قوم لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم بالنار
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 791 حدیث مرفوع مکررات 13 بدون مکرر
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ لوگوں کو نماز کا کہوں تو جماعت قائم ہو جائے (یعنی تکبیر ہو) پھر میں کسی مرد کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں کچھ مردوں کو ساتھ لے کر چلوں جن کے پاس لکڑی کے گٹھے ہوں ان لوگوں کے پاس جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے پھر انکے گھروں کو ان سمیت جلا ڈالوں ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah p.b.u.h said: ‘I was thinking of commanding that the call to prayer be given, then I would tell a man to lead the people in prayer, then I would go out with some other men carrying bundles of wood, and go to people who do not attend the prayer, and burn their houses down around them.”’ (Sahih)