Author Archives: arbaeen

Love to see Prophet

Urdu and English followed by Arabic text.

This Hadith is Mutafuq-Aleh (most authentic)

حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا يعقوب يعني ابن عبد الرحمن عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال من أشد أمتي لي حبا ناس يکونون بعدي يود أحدهم لو رآني بأهله وماله

—–

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2645        حدیث مرفوع       مکررات 1 متفق علیہ 1 بدون مکرر
 قتیبہ بن سعید، ، یعقوب ابن عبدالرحمن سہیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے سب سے زیادہ مجھے پیارے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے لیکن ان کی تمنا ہوگی کہ کاش کہ اپنے گھر والے اور مال کے بدلہ میں میرا دیدار کرلیں۔

Abu Huraira reported Allah’s Messenger (may peace be upon him) as saying: The people most loved by me from amongst my Ummah would be those who would come after me but everyone amongst them would have the keenest desire to catch a glimpse of me even at the cost of his family and wealth.

Mandatory of Jamaat and reponse of Prophet (PBUH)

Urdu and English followed by Arabic text.

This Hadith is Mutafuq-Aleh (most authentic) and repeated 13 times in books of aHadith.

 حدثنا عمر بن حفص قال حدثنا أبي قال حدثنا الأعمش قال حدثني أبو صالح عن أبي هريرة قال قال النبي صلی الله عليه وسلم ليس صلاة أثقل علی المنافقين من الفجر والعشائ ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا لقد هممت أن آمر المؤذن فيقيم ثم آمر رجلا يؤم الناس ثم آخذ شعلا من نار فأحرق علی من لا يخرج إلی الصلاة بعد

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 625        حدیث مرفوع       مکررات 13 متفق علیہ 8  
 عمرو بن حفص، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ گراں منافقوں پر کوئی نماز نہیں لیکن اگر ان کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان دونوں کے وقت پر پڑھنے میں کیا ثواب ہے تو ضرور ان میں آئیں اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل چلنا پڑے میں نے یہ پختہ ارادہ کرلیا تھا کہ موذں کو اذان دینے کا حکم دوں پھر کسی سے کہوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے اور میں آگ کے شعلے لے لوں اور جو لوگ اب تک گھر سے نماز کے لئے نہ نکلے ہوں ان کے گھروں کو ان کے سمیت جلا دوں لیکن ان کے اہل وعیال کا خیال آنے سے یہ ارادہ ترک کر دیا۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, “No prayer is harder for the hypocrites than the Fajr and the ‘Isha’ prayers and if they knew the reward for these prayers at their respective times, they would certainly present themselves (in the mosques) even if they had to c awl.” The Prophet added, “Certainly I decided to order the Mu’adh-dhin (call-maker) to pronounce Iqama and order a man to lead the prayer and then take a fire flame to burn all those who had not left their houses so far for the prayer along with their houses.”

حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد بن أبي عدي عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة عن النبي صلی الله عليه وسلم قال لقد هممت أن آمر بالصلاة فتقام ثم أخالف إلی منازل قوم لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم

—–

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2277        حدیث مرفوع       مکررات 13 متفق علیہ 8  
 محمد بن بشار، محمد بن عدی، شعبہ، سعد بن ابراہیم، حمید بن عبدالرحمن، ابوہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ نماز کا حکم دوں اور نماز کھڑی ہو تو میں ان لوگوں کے گھروں میں جاؤں جو نماز میں شریک نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو جلا دوں۔

Narrated Abu Huraira:
The Prophet said, “No doubt, I intended to order somebody to pronounce the Iqama of the (compulsory congregational) prayer and then I would go to the houses of those who do not attend the prayer and burn their houses over them.”

________________

حدثنا إسماعيل حدثني مالک عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب يحتطب ثم آمر بالصلاة فيؤذن لها ثم آمر رجلا فيؤم الناس ثم أخالف إلی رجال فأحرق عليهم بيوتهم والذي نفسي بيده لو يعلم أحدکم أنه يجد عرقا سمينا أو مرماتين حسنتين لشهد العشائ قال محمد بن يوسف قال يونس قال محمد بن سليمان قال ابوعبد الله مرماة ما بين زلف الشاة من اللحم مثل من ساة وميضاة الميم مخفوضة

—-

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2103        حدیث مرفوع       مکررات 13 متفق علیہ 8  
 اسماعیل، مالک، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں، پھر اذان کہنے کا حکم دوں پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں نہ آئے ہوں اور ان کو ان کے گھروں میں جلا دوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ تم میں سے کسی کو یہ امید ہو کہ وہاں اس کی موٹی ہڈی یا دو مر ماۃ حسنہ (یعنی بکری کے کھر کے درمیان جو گوشت ہوتا ہے) ملیں گے تو وہ ضرور عشاء میں شریک ہوں گے۔

Narrated Abu Huraira:
Allah’s Apostle said, “By Him in Whose Hands my life is, I was about to order for collecting fire wood and then order someone to pronounce the Adhan for the prayer and then order someone to lead the people in prayer and then I would go from behind and burn the houses of men who did not present themselves for the (compulsory congregational) prayer. By Him in Whose Hands my life is, if anyone of you had known that he would receive a bone covered with meat or two (small) pieces of meat present in between two ribs, he would come for ‘Isha’ prayer.” (See Hadith No. 617, Vol. 1)

__________________

حدثنا أبو بکر بن أبي شيبة حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم لقد هممت أن آمر بالصلاة فتقام ثم آمر رجلا فيصلي بالناس ثم أنطلق برجال معهم حزم من حطب إلی قوم لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم بالنار

سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 791        حدیث مرفوع       مکررات 13  بدون مکرر
 ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ لوگوں کو نماز کا کہوں تو جماعت قائم ہو جائے (یعنی تکبیر ہو) پھر میں کسی مرد کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں کچھ مردوں کو ساتھ لے کر چلوں جن کے پاس لکڑی کے گٹھے ہوں ان لوگوں کے پاس جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے پھر انکے گھروں کو ان سمیت جلا ڈالوں ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah p.b.u.h said: ‘I was thinking of commanding that the call to prayer be given, then I would tell a man to lead the people in prayer, then I would go out with some other men carrying bundles of wood, and go to people who do not attend the prayer, and burn their houses down around them.”’ (Sahih)

Going to Masjid in Dark

Urdu and English followed by Arabic text.

حدثنا يحيی بن معين حدثنا أبو عبيدة الحداد حدثنا إسمعيل أبو سليمان الکحال عن عبد الله بن أوس عن بريدة عن النبي صلی الله عليه وسلم قال بشر المشاين في الظلم إلی المساجد بالنور التام يوم القيامة

_____

سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 558        حدیث مرفوع       مکررات 2
 یحیی بن معین، ابوعبیدہ، اسماعیل، ابوسلیمان، عبداللہ بن اوس، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندھیرے میں مسجد میں جانے والوں کو خوشخبری دی ہے کہ قیامت کے دن انکے لیے مکمل نور ہوگا۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib:
The Prophet (peace_be_upon_him) said: Give good tidings to those who walk to the mosques in darkness for having a perfect light on the Day of Judgment.

Turmoil will fall like rain

Urdu and English followed by Arabic text.

حدثني أبو کامل الجحدري فضيل بن حسين حدثنا حماد بن زيد حدثنا عثمان الشحام قال انطلقت أنا وفرقد السبخي إلی مسلم بن أبي بکرة وهو في أرضه فدخلنا عليه فقلنا هل سمعت أباک يحدث في الفتن حديثا قال نعم سمعت أبا بکرة يحدث قال

قال رسول الله صلی الله عليه وسلم إنها ستکون فتن ألا ثم تکون فتنة القاعد فيها خير من الماشي فيها والماشي فيها خير من الساعي إليها ألا فإذا نزلت أو وقعت فمن کان له إبل فليلحق بإبله ومن کانت له غنم فليلحق بغنمه ومن کانت له أرض فليلحق بأرضه قال فقال رجل يا رسول الله أرأيت من لم يکن له إبل ولا غنم ولا أرض قال يعمد إلی سيفه فيدق علی حده بحجر ثم لينج إن استطاع النجا اللهم هل بلغت اللهم هل بلغت اللهم هل بلغت قال فقال رجل يا رسول الله أرأيت إن أکرهت حتی ينطلق بي إلی أحد الصفين أو إحدی الفتين فضربني رجل بسيفه أو يجي سهم فيقتلني قال يبو بإثمه وإثمک ويکون من أصحاب النار

——————-

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2750 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 2

ابوکامل جحدری فضیل بن حسین بن حماد بن زید عثمان شحام حضرت عثمان بن الشحام سے روایت ہے کہ میں اور فرقد سنجی مسلم بن ابوبکر کی طرف چلے اور وہ اپنی زمین میں تھے ہم ان کے پاس حاضر ہوئے تو ہم نے کہا کیا آپ نے اپنے باپ سے فتنوں کے بارے میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے انہوں نے کہا ہاں میں نے ابوبکرہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ

رسول اللہ فرمایا عنقریب فتنے برپا ہوں گے آگاہ رہو پھر فتنے ہوں گے ان میں بیٹھنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا ان کی طرف دوڑنے والے سے بہتر ہوگا آگاہ رہوجب یہ نازل ہوں یا واقع ہوں تو جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے ساتھ ہی لگا رہے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین سے ہی چمٹا رہے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں جس کے پاس نہ اونٹ ہوں اور نہ بکریاں نہ ہی زمین آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار پتھر کے ساتھ رگڑ کر کند اور ناکارہ کر دے پھر اگر وہ نجات حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو نجات حاصل کرے اے اللہ میں نے تیرا حکم پہنچا دیا ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں کہ اگر مجھے ناپسندیدگی اور ناگواری کے باوجود ان دونوں صفوں میں سے ایک صف یا ایک گروپ میں کھڑا کر دیا جائے پھر کوئی آدمی اپنی تلوار سے مجھے مار دے یا کوئی تیر میری طرف آجائے جو مجھے قتل کر ڈالے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ آدمی اپنے گناہ اور تیرے گناہ کے ساتھ لوٹے گا اور دوزخ والوں میں سے ہوگا۔

Abu Bakr reported Allah’s Messenger (may peace be upon him) as saying: There would soon be turmoil. Behold! there would be turmoil in which the one who would be seated would be better than one who would stand and the one who would stand would be better than one who would run. Behold! when the turmoil comes or it appears, the one who has camel should stick to his camel and he who has sheep or goat should stick to his sheep and goat and he who has land should stick to the land. A person said: ‘Allah’s Messenger, what is your opinion about one who has neither camel nor sheep nor land? Thereupon, he said: He should take hold of his sword and beat its edge with the help of stone and then try to find a way of escape. O Allah, I have conveyed (Thy Message) ; O Allah, I have conveyed (Thy Message) ; O Allah, I have conveyed (Thy Message). A person said: Allah’s Messenger, what is your opinion if I am drawn to a rank in spite of myself, or in one of the groups and made to march and a man strikes with his sword or there comes an arrow and kills me? Thereupon he said: He will bear the punishment of his sin and that of yours and he would be one amongst the denizens of Hell.

They will sunk those attack on Kabaa

Urdu and English followed by Arabic text.

و حدثنا أبو بکر بن أبي شيبة حدثنا يونس بن محمد حدثنا القاسم بن الفضل الحداني عن محمد بن زياد عن عبد الله بن الزبير أن عاشة قالت عبث رسول الله صلی الله عليه وسلم في منامه فقلنا

يا رسول الله صنعت شيا في منامک لم تکن تفعله فقال العجب إن ناسا من أمتي يؤمون بالبيت برجل من قريش قد لجأ بالبيت حتی إذا کانوا بالبيدا خسف بهم فقلنا يا رسول الله إن الطريق قد يجمع الناس قال نعم فيهم المستبصر والمجبور وابن السبيل يهلکون مهلکا واحدا ويصدرون مصادر شتی يبعثهم الله علی نياتهم

———————

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2744 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 2 بدون مکرر
ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد، قاسم بن فضل، محمد بن زیاد، عبداللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند میں اپنے ہاتھ پاؤں کو ہلایا تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ نے اپنی نیند میں وہ عمل کیا جو پہلے نہ فرمایا کرتے تھے تو آپ نے فرمایا تعجب ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ بیت اللہ کا ارادہ کریں گے قریش کے ایک آدمی کو پکڑنے کے لئے جس نے بیت اللہ میں پناہ لی ہوگا یہاں تکہ کہ جب وہ ایک ہموار میدان میں پہنچیں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول راستے میں تو سب لوگ جمع ہوتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ان میں با اختیار مجبور اور مسافر بھی ہوں گے جو ایک ہی دفعہ ہلاک ہو جائیں گے اور مختلف طریقوں سے نکلیں گے اور انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔

‘A’isha reported that Allah’s Messenger (may peace be upon him) was startled in the state of sleep. We said: Allah’s Messenger, you have done something in the state of your sleep which you never did before. Thereupon he said: Strange it is that some people of my Ummah would attack the House (Ka’ba) (for killing) a person who would belong to the tribe of the Quraish and he would try to seek protection in the House. And when they would reach the plain ground they would be sunk. We said: Allah’s Messenger, all sorts of people throng the path. Thereupon he said: Yes, there would be amongst them people who would come with definite designs and those who would come under duress and there would be travellers also, but they would all be destroyed through one (stroke) of destruction, though they would be raised in different states (on the Day of Resurrection). Allah would, however, raise them according to their intention.

Enemies will sunk while coming to attack Kaba

Urdu and English followed by Arabic text.

حدثنا عمرو الناقد وابن أبي عمر واللفظ لعمرو قالا حدثنا سفيان بن عيينة عن أمية بن صفوان سمع جده عبد الله بن صفوان يقول أخبرتني حفصة أنها سمعت النبي صلی الله عليه وسلم يقول ليؤمن هذا البيت جيش يغزونه حتی إذا کانوا ببيدا من الأرض يخسف بأوسطهم وينادي أولهم آخرهم ثم يخسف بهم فلا يبقی إلا الشريد الذي يخبر عنهم فقال رجل أشهد عليک أنک لم تکذب علی حفصة وأشهد علی حفصة أنها لم تکذب علی النبي صلی الله عليه وسلم

——————

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2742 حدیث مرفوع مکررات 5 متفق علیہ 2
عمرو ناقد، ابن ابی عمرو، سفیان، ابن عیینہ، امیہ بن صفوان، عبداللہ بن صفوان، حضرت ام المومنین سیدہ حفصہ سے روایت ہے کہ

انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اس گھر والوں سے لڑنے کے ارادہ سے ایک لشکر چڑھائی کرے گا یہاں تک کہ جب وہ زمین کے ہموار میدان میں ہوں گے تو انکے درمیانی لشکر کو دھنسا دیا جائے گا اور ان کے آگے والے پیچھے والوں کو پکاریں گے پھر انہیں بھی دھنسا دیا جائے گا اور سوائے ایک آدمی کے جو بھاگ کر ان کے بارے میں اطلاع دے گا کوئی بھی باقی نہ رہے گا ایک آدمی نے کہا میں گواہی دیتا ہوں تیری اس بات پر کہ تونے حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا اور حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بھی میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا۔

Abdullah b. Safwan reported that Hafsa told him that she had heard Allah’s Apostle (may peace be upon him) as saying: An army would attack this House in order to fight against the inhabitants of this House and when it would be at the plain ground the ranks in the centre of the army would be sunk and the vanguard would call the rear flanks of the army and they would also be sunk and no flank would be left except some people who would go to inform them (their kith and kin). A person (who had been listening to this hadith from Abdullah b. Safwan) said: I bear testimony in regard to you that you are not imputing a lie to Hafsa. And I bear testimony to the fact that Hafsa is not telling a lie about Allah’s Apostle (may peace be upon him).

Detail hadith about last events

Urdu and English followed by Arabic text.

حدثنا أبو خيثمة زهير بن حرب حدثنا الوليد بن مسلم حدثني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر حدثني يحيی بن جابر الطاي قاضي حمص حدثني عبد الرحمن بن جبير عن أبيه جبير بن نفير الحضرمي أنه سمع النواس بن سمعان الکلابي ح و حدثني محمد بن مهران الرازي واللفظ له حدثنا الوليد بن مسلم حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن يحيی بن جابر الطاي عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه جبير بن نفير عن النواس بن سمعان

قال ذکر رسول الله صلی الله عليه وسلم الدجال ذات غداة فخفض فيه ورفع حتی ظنناه في طافة النخل فلما رحنا إليه عرف ذلک فينا فقال ما شأنکم قلنا يا رسول الله ذکرت الدجال غداة فخفضت فيه ورفعت حتی ظنناه في طافة النخل فقال غير الدجال أخوفني عليکم إن يخرج وأنا فيکم فأنا حجيجه دونکم وإن يخرج ولست فيکم فامرؤ حجيج نفسه والله خليفتي علی کل مسلم إنه شاب قطط عينه طافة کأني أشبهه بعبد العزی بن قطن فمن أدرکه منکم فليقرأ عليه فواتح سورة الکهف إنه خارج خلة بين الشأم والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا يا عباد الله فاثبتوا قلنا يا رسول الله وما لبثه في الأرض قال أربعون يوما يوم کسنة ويوم کشهر ويوم کجمعة وسار أيامه کأيامکم قلنا يا رسول الله فذلک اليوم الذي کسنة أتکفينا فيه صلاة يوم قال لا اقدروا له قدره قلنا يا رسول الله وما إسراعه في الأرض قال کالغيث استدبرته الريح فيأتي علی القوم فيدعوهم فيؤمنون به ويستجيبون له فيأمر السما فتمطر والأرض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم أطول ما کانت ذرا وأسبغه ضروعا وأمده خواصر ثم يأتي القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بأيديهم شي من أموالهم ويمر بالخربة فيقول لها أخرجي کنوزک فتتبعه کنوزها کيعاسيب النحل ثم يدعو رجلا ممتلا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه يضحک فبينما هو کذلک إذ بعث الله المسيح ابن مريم فينزل عند المنارة البيضا شرقي دمشق بين مهرودتين واضعا کفيه علی أجنحة ملکين إذا طأطأ رأسه قطر وإذا رفعه تحدر منه جمان کاللؤلؤ فلا يحل لکافر يجد ريح نفسه إلا مات ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه فيطلبه حتی يدرکه بباب لد فيقتله ثم يأتي عيسی ابن مريم قوم قد عصمهم الله منه فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم في الجنة فبينما هو کذلک إذ أوحی الله إلی عيسی إني قد أخرجت عبادا لي لا يدان لأحد بقتالهم فحرز عبادي إلی الطور ويبعث الله يأجوج ومأجوج وهم من کل حدب ينسلون فيمر أوالهم علی بحيرة طبرية فيشربون ما فيها ويمر آخرهم فيقولون لقد کان بهذه مرة ما ويحصر نبي الله عيسی وأصحابه حتی يکون رأس الثور لأحدهم خيرا من ماة دينار لأحدکم اليوم فيرغب نبي الله عيسی وأصحابه فيرسل الله عليهم النغف في رقابهم فيصبحون فرسی کموت نفس واحدة ثم يهبط نبي الله عيسی وأصحابه إلی الأرض فلا يجدون في الأرض موضع شبر إلا ملأه زهمهم ونتنهم فيرغب نبي الله عيسی وأصحابه إلی الله فيرسل الله طيرا کأعناق البخت فتحملهم فتطرحهم حيث شا الله ثم يرسل الله مطرا لا يکن منه بيت مدر ولا وبر فيغسل الأرض حتی يترکها کالزلفة ثم يقال للأرض أنبتي ثمرتک وردي برکتک فيومذ تأکل العصابة من الرمانة ويستظلون بقحفها ويبارک في الرسل حتی أن اللقحة من الإبل لتکفي الفام من الناس واللقحة من البقر لتکفي القبيلة من الناس واللقحة من الغنم لتکفي الفخذ من الناس فبينما هم کذلک إذ بعث الله ريحا طيبة فتأخذهم تحت آباطهم فتقبض روح کل مؤمن وکل مسلم ويبقی شرار الناس يتهارجون فيها تهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة

———————————-

صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2873 حدیث قدسی حدیث متواتر مکررات 10 متفق علیہ 3
ابوخیثمہ زہیر بن حرب، ولید بن مسلم، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، یحیی بن جا رب طائی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت نو اس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سمعان سے روایت ہے کہ

ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے کبھی تحقیر کی اور کبھی بڑا کر کے بیان فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں ہے پس جب ہم شام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس بارے میں معلوم کرلیا تو فرمایا تمہارا کیا حال ہے؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح دجال کا ذکر کیا اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تحقیر کی اور کبھی اس فتنہ کو بڑا کر کے بیان کیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے ایک جھنڈ میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ دوسرے فتنوں کا زیادہ خوف کرتا ہوں اگر وہ میری موجودگی میں ظاہر ہوگیا تو تمہارے بجائے میں اس کا مقابلہ کروں گا اور اگر میری غیر موجودگی میں ظاہر ہوا تو ہر شخص خود اس سے مقابلہ کرنے والا ہوگا اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ اور نگہبان ہوگا بے شک دجال نوجوان گھنگریالے بالوں والا اور پھولی ہوئی آنکھ والا ہوگا گویا کہ میں اسے عبدالعزی بن قطن کے ساتھ تشبیہ دیتا ہوں پس تم میں سے جو کوئی اسے پالے تو چاہئے کہ اس پر سورت کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے بے شک اس کا خروج شام اور عراق کے درمیان سے ہوگا پھر وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب فساد برپا کرے گا اے اللہ کے بندو ثابت قدم رہنا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس دن اور ایک دن سال کے برابر اور ایک دن مہینہ کے برابر اور ایک دن ہفتہ کے برابر ہوگا اور باقی ایام تمہارے عام دنوں کے برابر ہوں گے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ دن جو سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ہمارے لئے ایک دن کی نمازیں پڑھنا کافی ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ تم ایک سال کی نمازوں کا اندازہ کرلینا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس کی زمین میں چلنے کی تیزی کیا ہوگی آپ نے فرمایا اس بادل کی طرح جسے پیچھے سے ہوا دھکیل رہی ہو پس وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں دعوت دے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی دعوت قبول کرلیں گے پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین سبزہ اگائے گی اور اسے چرنے والے جانور شام کے وقت آئیں گے تو ان کے کوہان پہلے سے لمبے تھن بڑے اور کو کھیں تنی ہوئی ہوں گی پھر وہ ایک اور قوم کے پاس جائے گا اور انہیں دعوت دے گا وہ اس کے قول کو رد کر دیں گے تو وہ اس سے واپس لوٹ آئے گا پس وہ قحط زدہ ہو جائیں گے کہ ان کے پاس دن کے مالوں میں سے کچھ بھی نہ رہے گا اور اسے کہے گا کہ اپنے خزانے کو نکال دے تو زمین کے خزانے اس کے پاس آئیں گے۔

An-Nawwas b. Sam’an reported that

Allah’s Messenger (may peace be upon him) made a mention of the Dajjal one day in the morning. He sometimes described him to be insignificant and sometimes described (his turmoil) as very significant and we felt as if he were in the cluster of the date-palm trees. When we went to him (to the Holy Prophet) in the evening and he read (the signs of fear) in our faces, he said: What is the matter with you? We said: Allah’s Messenger, you made a mention of the Dajjal in the morning (sometimes describing him) to be insignificant and sometimes very important, until we began to think as if he were present in some (near) part of the cluster of the datepalm trees. Thereupon he said: I harbour fear in regard to you in so many other things besides the Dajjal. If he comes forth while I am among you, I shall contend with him on your behalf, but if he comes forth while I am not amongst you, a man must contend on his own behalf and Allah would take care of every Muslim on my behalf (and safeguard him against his evil). He (Dajjal) would be a young man with twisted, contracted hair, and a blind eye. I compare him to ‘Abd-ul-’Uzza b. Qatan. He who amongst you would survive to see him should recite over him the opening verses of Sura Kahf (xviii.). He would appear on the way between Syria and Iraq and would spread mischief right and left. O servant of Allah! adhere (to the path of Truth). We said: Allah’s Messenger, how long would he stay on the earth? He said.. For forty days, one day like a year and one day like a month and one day like a week and the rest of the days would be like your days. We said: Allah’s Messenger, would one day’s prayer suffice for the prayers of day equal to one year? Thereupon he said: No, but you must make an estimate of time (and then observe prayer). We said: Allah’s Messenger, how quickly would he walk upon the earth? Thereupon he said: Like cloud driven by the wind. He would come to the people and invite them (to a wrong religion) and they would affirm their faith in him and respond to him. He would then give command to the sky and there would be rainfall upon the earth and it would grow crops. Then in the evening, their posturing animals would come to them with their humps very high and their udders full of milk and their flanks stretched. He would then come to another people and invite them. But they would reject him and he would go away from them and there would be drought for them and nothing would be left with them in the form of wealth.
He would then walk through the wasteland and say to it: Bring forth your treasures, and the treasures would come out and collect (themselves) before him like the swarm of bees. He would then call a person brimming with youth and strike him with the sword and cut him into two pieces and (make these pieces lie at a distance which is generally) between the archer and his target. He would then call (that young man) and he will come forward laughing with his face gleaming (with happiness) and it would at this very time that Allah would send Christ, son of Mary, and he will descend at the white minaret in the eastern side of Damscus wearing two garments lightly dyed with saffron and placing his hands on the wings of two Angels. When he would lower his head, there would fall beads of perspiration from his head, and when he would raise it up, beads like pearls would scatter from it. Every non-believer who would smell the odour of his self would die and his breath would reach as far as he would be able to see. He would then search for him (Dajjal) until he would catch hold of him at the gate of Ludd and would kill him. Then a people whom Allah had protected would come to Jesus, son of Mary, and he would wipe their faces and would inform them of their ranks in Paradise and it would be under such conditions that Allah would reveal to Jesus these words: I have brought forth from amongst My servants such people against whom none would be able to fight; you take these people safely to Tur, and then Allah would send Gog and Magog and they would swarm down from every slope. The first of them would pass the lake of Tibering and drink out of it. And when the last of them would pass, he would say: There was once water there. Jesus and his companions would then be besieged here (at Tur, and they would be so much hard pressed) that the head of the ox would be dearer to them than one hundred dinars and Allah’s Apostle, Jesus, and his companions would supplicate Allah, Who would send to them insects (which would attack their necks) and in the morning they would perish like one single person. Allah’s Apostle, Jesus, and his companions would then come down to the earth and they would not find in the earth as much space as a single span which is not filled with their putrefaction and stench. Allah’s Apostle, Jesus, and his companions would then again beseech Allah, Who would send birds whose necks would be like those of bactrin camels and they would carry them and throw them where God would will.
Then Allah would send rain which no house of clay or (the tent of) camels’ hairs would keep out and it would wash away the earth until it could appear to be a mirror. Then the earth would be told to bring forth its fruit and restore its blessing and, as a result thereof, there would grow (such a big) pomegranate that a group of persons would be able to eat that, and seek shelter under its skin and milch cow would give so much milk that a whole party would be able to drink it. And the milch camel would give such (a large quantity of) milk that the whole tribe would be able to drink out of that and the milch sheep would give so much milk that the whole family would be able to drink out of that and at that time Allah would send a pleasant wind which would soothe (people) even under their armpits, and would take the life of every Muslim and only the wicked would survive who would commit adultery like asses and the Last Hour would come to them.

Sahih Muslims, Book Fitn Hadith Number 2873.

 

Khrooj-e-Dajjal and return of hazrat Isa (A.H)

Urdu and English followed by Arabic text.

حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري حدثنا أبي حدثنا شعبة عن النعمان بن سالم قال سمعت يعقوب بن عاصم بن عروة بن مسعود الثقفي يقول سمعت عبد الله بن عمرو وجاه رجل فقال ما هذا الحديث الذي تحدث به تقول إن الساعة تقوم إلی کذا وکذا فقال سبحان الله أو لا إله إلا الله أو کلمة نحوهما لقد هممت أن لا أحدث أحدا شيا أبدا إنما قلت إنکم سترون بعد قليل أمرا عظيما يحرق البيت ويکون ويکون ثم قال

قال رسول الله صلی الله عليه وسلميخرج الدجال في أمتي فيمکث أربعين لا أدري أربعين يوما أو أربعين شهرا أو أربعين عاما فيبعث الله عيسی ابن مريم کأنه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلکه ثم يمکث الناس سبع سنين ليس بين اثنين عداوة ثم يرسل الله ريحا باردة من قبل الشأم فلا يبقی علی وجه الأرض أحد في قلبه مثقال ذرة من خير أو إيمان إلا قبضته حتی لو أن أحدکم دخل في کبد جبل لدخلته عليه حتی تقبضه قال سمعتها من رسول الله صلی الله عليه وسلم قال فيبقی شرار الناس في خفة الطير وأحلام السباع لا يعرفون معروفا ولا ينکرون منکرا فيتمثل لهم الشيطان فيقول ألا تستجيبون فيقولون فما تأمرنا فيأمرهم بعبادة الأوثان وهم في ذلک دار رزقهم حسن عيشهم ثم ينفخ في الصور فلا يسمعه أحد إلا أصغی ليتا ورفع ليتا قال وأول من يسمعه رجل يلوط حوض إبله قال فيصعق ويصعق الناس ثم يرسل الله أو قال ينزل الله مطرا کأنه الطل أو الظل نعمان الشاک فتنبت منه أجساد الناس ثم ينفخ فيه أخری فإذا هم قيام ينظرون ثم يقال يا أيها الناس هلم إلی ربکم وقفوهم إنهم مسولون قال ثم يقال أخرجوا بعث النار فيقال من کم فيقال من کل ألف تسع ماة وتسعة وتسعين قال فذاک يوم يجعل الولدان شيبا وذلک يوم يکشف عن ساق

———————————————————— 
عبیداللہ بن معاذ شعبہ، نعمان بن سالم حضرت یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے سنا اور ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا یہ حدیث کیسے ہے جسے آپ روایت کرتے ہیں کہ قیامت اس اس طرح قائم ہوگی انہوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ یا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ یا اسی طرح کا کوئی اور کلمہ کہا کہ میں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ میں کسی سے بھی کبھی کوئی حدیث روایت نہ کروں گا میں نے تو یہ کہا تھا : عنقریب تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک بہت بڑا حادثہ دیکھو گے جو گھر کو جلادے گا اور جو ہونا ہے وہ ضرور ہوگا پھر کہا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال میری امت میں خروج کرے گا اور ان میں چالیس دن ٹھہرے گا اور میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا گویا کہ وہ عروہ بن مسعود ہیں تو وہ تلاش کر کے دجال کو قتل کردیں گے پھر لوگ سات سال اسی طرح گزاریں گے کہ کسی بھی دو اشخاص کے درمیان کوئی عداوت نہ ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا جس سے زمین پر کوئی بھی ایسا آدمی باقی نہیں رہے گا کہ اس کی روح قبض کرلی جائے گی جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی بھلائی یا ایمان ہوگا یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی پہاڑ کے اندر داخل ہوگیا تو وہ اس میں اس تک پہنچ کر اسے قبض کر کے ہی چھوڑے گی اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا پھر برے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے جو چڑیوں کی طرح جلد باز اور بے عقل درندہ صفت ہوں گے وہ کسی نیکی کو نہ پہچانیں گے اور نہ برائی کو برائی تصور کریں گے ان کے پاس شیطان کسی بھیس میں آئے گا تو وہ کہے گا کیا تم میری بات نہیں مانتے تو وہ کہیں گے کہ تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے تو شیطان انہیں بتوں کی پوجا کرنے کا حکم دے گا اور وہ اسی بت پرستی میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ان کا رزق اچھا ہوگا اور ان کی زندگی عیش وعشرت کی ہوگی پھر صور پھونکا جائے گا جو بھی اس کی آواز سنے گا وہ اپنی گردن کو ایک مرتبہ ایک طرف جھکائے گا اور دوسری طرف سے اٹھا لے گا اور جو شخص سب سے پہلے صور کی آواز سنے گا وہ اپنے اونٹوں کا حوض درست کر رہا ہوگا وہ بے ہوش ہو جائے گا اور دوسرے لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے پھر اللہ بھیجے گا یا اللہ شبنم کی طرح بارش نازل کرے گا جس سے لوگوں کے جسم اگ پڑیں گے پھر صور میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور دیکھتے ہوں گے پھر کہا جائے گا اے لوگو اپنے رب کی طرف آؤ اور ان کو کھڑا کرو ان سے سوال کیا جائے گا پھر کہا جائے گا دوزخ کے لئے ایک جماعت نکالو تو کہا جائے گا کتنے لوگوں کی جماعت کہا جائے گا ہر ہزار سے نو سو ننانوے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور اس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔

 

‘Abdullah b. ‘Amr reported that a person came to him and said: What is this hadith that you narrate that the Last Hour would come at such and such time? Thereupon he said: Hallowed be Allah, there is no god but Allah (or the words to the same effect). I have decided that I would not narrate anything to anyone now. I had only said that you would see after some time an important event that the (sacred) House (Ka’ba) would be burnt and it would happen and definitely happen.

He then reported that Allah’s Messenger (may peace be upon him) said: The Dajjal would appear in my Ummah and he would stay (in the world) for forty-I cannot say whether he meant forty days, forty months or forty years. And Allah would then send Jesus son of Mary who would resemble ‘Urwa b Mas’ud. He (Jesus Christ) would chase him and kill him. Then people would live for seven years that there would be no rancour between two persons. Then Allah would send cold wind from the side of Syria that none would survive upon the earth having a speck of good in him or faith in him but he would die, so much so that even if some amongst you were to enter the innermost part of the mountain, this wind would reach that place also and that would cause his death. I heard Allah’s Messenger (may peace be upon him) as saying: Only the wicked people would survive and they would be as careless as birds with the charactertistics of beasts. They would never appreciate the good nor condemn evil. Then the Satan would come to them in human form and would say: Don’t you respond?

And they would say: What do you order us? And he would command them to worship the idols but, in spite of this, they would have abundance of sustenance and lead comfortable lives. Then the trumpet would be blown and no one would hear that but he would bend his neck to one side and raise it from the other side and the first one to hear that trumpet would be the person who would be busy in setting right the tank meant for providing water to the camels. He would swoon and the other people would also swoon, then Allah would send or He would cause to send rain which would be like dew and there would grow out of it the bodies of the people. Then the second trumpet would be blown and they would stand up and begin to look (around).

Then it would be said: O people, go to your Lord, and make them stand there. And they would be questioned. Then it would be said: Bring out a group (out of them) for the Hell-Fire. And then it would be asked: How much? It would be said: Nine hundred and ninty-nine out of one thousand for the Hell-Fire and that would be the day which would make the children old because of its terror and that would be the day about which it has been said: “On the day when the shank would be uncovered” (lxviii. 42).

Sahih Muslims, Book Fitn Hadith Number 2881.